envato

envato

Sunday, May 27, 2012

A'ab e Zam Zam - Precious Gift Of Allah

A'ab e Zam Zam - Precious Gift Of Allah

زمزم سب پانیوں کا سردار اور حضرت جبریل علیہ السلام کا کھودا ہوا چشمہ ہے زمزم کا پانی شیر خوار حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے بہانےاللہ تعالیٰ نے تقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزے کی صورت میں مکہ مکرمہ کے بےآب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو آج تک جاری ہے۔ یہ کنواں وقت کےساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدادا حضرت عبدالمطلب نےاشارہ خداوندی سےدوبارہ کھدوایا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ آب زم زم کا کنواں خانہ کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباََ 21میٹر کے فاصلے پر تہہ خانے میں واقع ہے ، اس کنویں کی گہرائی تقریباََ 98فٹ (30میٹر) اور اس کے دھانے کا قطر تقریباََ3 فٹ 7 انچ تا 8 فٹ 9 انچ ہے ۔ 1953 ء تک یہ پانی ڈول کے ذریعے نکالا جاتا تھا ، مگر اب مسجد حرام کے اندر اور باہر کے مختلف مقامات پر آبِ زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ زم زم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہے اور حجاج اکرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔آبِ زم زم دنیا کا وہ واحد پانی ہے ، جس کو پینے کے بعدبیماریوں سے شفاءملتی ہے اور جس کے پیتے وقت مانگی جانے والی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ اللہ سے دُعاہے کہ جس طرح اس نے ہمیں اس دنیا میں آب زم زم کی نعمت عطا فرمائی ہے ، حوضِ کوثر پر بھی ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں آب ِکوثر پینا نصیب فرمائے۔ آمین — —

Friday, May 11, 2012

2020 کی 20 بلند ترین عمارتیں Highest Towers in the world with Pictures



 2020 کی 20 بلند ترین عمارتیں Highest Towers in the world with Pictures


Allama Iqbal said in the last century: "Whatever the eye sees, can not bank on that ... I wonder what the world what will be erased.

"The world's tallest building" is called in the next few years, this distinction is lost.



Dubai published muqr trade journal arbyn Business, a research report in the year 2020 AD the world coming to Simon talk, do 20 tallest buildings in existence come to be. Fun thing is that the 20 buildings of the elevenwill not.



klfyh Bridge "will give the mother a thousand meters will be" Kingdom Tower. "JD is a city in Saudi Arabia this building completed in 2017 will be heard.

However, Azerbaijan's capital Baku in honor of these two buildings to be constructed "Azerbaijan Tower" will take it. One hundred fifty meters to its height.



Twenty tallest buildings in the two buildings were part of North America, is one of the "trump International Hotel & Tower" is the height of four hundred meters, while the other is tyys "Willis Tower" which is the height of four hundred forty-two meters. These two buildings are still maintains its existence.




 2020 کی 20 بلند ترین عمارتیں

رواں صدی میں جو کچھ ہورہا ہے بہت تیزی سے ہورہا ہے ۔ ایک عمارت وجود میں آتی ہے اور ”دنیا کی بلند ترین عمارت“ کہلا پاتی ہے۔ مگر چند ہی سالوں میں، اس سے یہ اعزاز چھن جاتا ہے


علامہ اقبال نے پچھلی صدی میں کہا تھا : ” آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آسکتا نہیں۔۔۔محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی‘‘۔

غالباً ان کا اشارہ اس صدی کی طرف بھی تھا جس سے دنیا اب گزررہی ہے۔ رواں صدی میں جو کچھ ہورہا ہے بہت تیزی سے ہورہا ہے ۔اتنی تیزی سے کہ اگلے پل کیا ہوجائے یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ ایک عمارت وجود میں آتی ہے ”دنیا کی بلند ترین عمارت“کہلاتی ہے مگر اگلے چند ہی سالوں میں اس سے یہ اعزاز چھن جاتا ہے۔

آج دبئی کا ”برج خلیفہ “دنیا کے سب سے اونچے ٹاور کا اعزاز رکھتا ہے مگر صرف آٹھ سال بعد ایک نہیں ایسی 20عمارتیں وجود میں آجائیں گی جو باری باری ایک دوسرے سے بلند ترین عمارت کا تاج چھینتی چلی جائیں گی۔ 

دبئی سے شائع ہونے والے موقر تجارتی جریدے ’عربین بزنس‘ کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق سن 2020ء تک دنیا میں آ سمان سے باتیں کرتیں 20 بلند ترین عمارات وجود میں آچکی ہوں گی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان 20 عمارات میں سے گیارہ عمارات صرف ایک ملک ،چین کی ملکیت ہوں گی ۔ یعنی دنیا کی تمام بلند ترین عمارات میں نصف سے بھی زائد عمارات چینی سرزمین کا حصہ ہوں گی جبکہ شمالی امریکہ اور خلیجی ممالک کے حصے میں صرف دو، دوجبکہ یورپ کے حصے میں ایک بھی عمارت نہیں آئے گی۔ 



یہ خواب وخیال کی باتیں نہیں۔ اس لئے دور مت جایئے کیوں کہ ایسا ہونے میں صرف8 سال کا وقت درکار ہے۔ آٹھ سال بعد چین کے تین شہر شنگھائی، شین زین اور نان جنگ بلندترین عمارات کا تاج اپنے سر سجاچکے ہوں گے۔

اس کے مقابلے میں خلیج دنیا کی بیس بلند ترین عمارات میں سے صرف دوعمارات کا مسکن ہوگا۔ ایک” برج خلفیہ“ جو دبئی میں واقع ہے اور اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھتا ہے جبکہ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت جو ”برج خلفیہ “کو بھی مات دے دے گی وہ ہوگی ایک ہزار میٹر بلند ”کنگڈم ٹاور“۔ یہ عمارت سعودی عرب کے شہر جد ہ سن 2017ء میں مکمل ہوگی۔ 

تاہم ان دونوں عمارتوں کا اعزاز آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں تعمیر ہونے والا ”آزربائیجان ٹاور“ چھین لے گا۔ اس کی اونچائی ایک ہزار پچاس میٹر ہوگی۔ 

اس عرصے میں کوئی ایک بھی عمارت یورپ کی ملکیت نہیں ہوگی ۔ یہاں جو عمارات اس وقت تک بن کر مکمل ہوں گی مثلاً شارڈ لندن بریج اور ماسکو کا ”فیڈریشن ٹاور“ ۔ ان کی سطح زمین سے بلندی بالترتیب صرف تین سو چار اورتین سو ساٹھ میٹر ہوگی۔ 

بیس بلند ترین عمارات میں سے شمالی امریکا کے حصے میں جو دو عمارات آئیں، ان میں سے ایک ہے ”ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور“ جس کی بلندی چار سو تئیس میٹر ہے جبکہ دوسری ہے ”ولس ٹاور“ جس کی بلندی ہے چار سو بیالیس میٹر۔یہ دونوں عمارت اس وقت بھی اپنا وجود رکھتی ہیں۔

Infolinks In Text Ads

envato